نئی دہلی:31/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)قومی دارالحکومت کجریوال حکومت اور دہلی کے دہلی میونسپل کارپوریشن کے درمیان تنازعات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے نئے فرمان نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔اس حکم میں یہ کہا گیا تھا کہ اب علاقے میں ممبر پارلیمنٹ اور ایم ایل اے کونسلر کی منظوری کے بغیر کوئی ترقیاتی کام نہیں کرسکتے۔یہ سمجھاجارہا ہے کہ نئے فرمان کے بعدکجریوال حکومت اور دہلی میونسپل کارپوریشن اس مسئلے پر ایک مرتبہ پھرآمنے سامنا ہو سکتے ہیں،پہلے بھی دہلی حکومت اور میونسپل کارپوریشن نے کئی مسائل پراختلاف کیاہے۔مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ جاری کردہ سرکلر کے مطابق، کوئی ممبرپارلیمنٹ اور ایم ایل اے اس علاقے کے کونسلر کی منظوری کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کرسکتے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ علاقے میں جو بھی ترقیاتی کام ہوں گے، اس کام کی منصوبہ بندی سے لے کر کام آرڈر، سنگ بنیاد اور مکمل ہونے تک کونسلر کی منظوری لینی ہوگی۔اتناہی نہیں جس علاقے میں ترقی کام ہونے والاہے یاہوچکاہے ان کے پتھرپرنسلر کا نام بھی لکھواناہوگا ۔اس سلسلے میں مشرقی میونسپل کارپوریشن کے چیف انجینئر نے سرکلر جاری کرکے تمام کارپوریشن حکام کو نوٹس جاری کیا۔1992میں 74ویں ترمیم میں اسے آئین میں ترتیب دیا گیا ہے، لیکن اس کی پیروی نہیں کی جا رہی تھی۔دراصل یہ بات جب سامنے آئی تھی جب بہت سے کونسلر نے اس کے خلاف آواز بلند کی تھی۔اس میں عام آدمی پارٹی(آپ)کے ممبران اسمبلی کی طرف سے دہلی میونسپل کارپوریشن کے عملے سے کوئی بھی کام کروا لیا جاتا تھا اور کونسلر کو اس کی معلومات بھی نہیں ہوتی تھی۔